Sale!
ہندوستان کے ٹھگ | HINDUSTAN KAY THUG | CONFESSIONS OF A THUG | PHILIP MEADOWS TAYLOR
- (145 Reviews)
₨ 750 ₨ 1,000
Author:
Pages
Category
Current Viewers
283 customers are viewing this product
Easy Shipping
Delivery Charges Rs. 200 All Over Pakistan
Delivery Time
Order will be Delivered with in 2 to 6 working Days (Based on your area)
SHARE ON
کتاب کا نام: CONFESSIONS OF A THUG
مصنف: PHILIP MEADOWS TAYLOR
اردو ترجمہ بنام: ہندوستان کے ٹھگ
ترجمہ: حسن عابد جعفری
صفحات: 568
” مترجم نے انگریزی میں اس کتاب کو دھڑکتے دل سے پڑھا اور کانپتے قلم سے ترجمہ کیا۔ 1839 میں جب یہ کتاب لندن میں چھپ رہی تھی، ملکہ وکٹوریہ آنجہانی کا حکم تھا کہ اس کے پروف کی تصحیح کے بعد روزانہ ان کے پاس صبح ناشتہ کے وقت پہنچائے جا یا کریں بلکہ ان صفحات کو شوق سے پڑھتی تھیں اور دوسرے پروف کی منتظر رہتی تھیں۔ پڑھتی تھیں اور روتی تھیں۔ مگر پڑھنا ترک نہ ہوتا۔ یہی کیفیت انگلستان کی سوسائٹی کی تھی ، پڑھنے والوں کی نیند اڑ جاتی تھی، مگر کتاب پڑھے بغیر چین نہ آتا تھا۔ کچھ ایسے ہی وجوہ ترجمہ کے بھی ذمہ دار ہیں ! “
نوٹ : یہ تحریر کتاب کے شروع میں ” دیپاچہ مترجم” کے عنوان سے شائع دیپاچہ سے لی گئی ہے۔
” ریاست کے خلاف خفیہ جماعتیں یا تو انقلابی بناتے ہیں یا جرائم پیشہ لوگ، دونوں صورتوں میں جماعتیں یا برادریاں اپنے اتحاد اور یگانگت کو قائم رکھنے کے لیے خفیہ علامات، اشارے اور زبان کی بھی تشکیل کرتی ہیں۔
دونوں مقاصد کے حصول کے لئے دہشت گردی اور قتل کے ہتھیاروں کو بھی استعمال کرتی ہیں۔ ان دونوں میں فرق یہ ہوتا ہے کہ انقلابی ریاست کو کمزور اور توڑ کر ایک مثالی معاشرہ قائم کرنا چاہتے ہیں۔ جب کہ جرائم پیشہ خفیہ جماعتیں، محدود دائرے میں رہتے ہوئے ذاتی یا جماعتی مفاد کو اپنے پیش نظر رکھتی ہیں۔
برصغیر ہندوستان میں ٹھگوں کی جماعت بھی ایسی ہی ایک خفیہ تنظیم تھی کہ جس کے اپنے اشارے ، علامات اور زبان تھی۔ یہ انگریزی حکومت کے لیے اس وقت خطرہ بن گئی کہ جب اس نے ریاست کی اتھارٹی کو چیلنج کیا اور معاشرے کے امن و امان کو تہس نہس کر دیا۔ اس وجہ سے انگریزی حکومت کی اتھارٹی اور عوام میں اعتماد کے لیے ضروری ہوگیا کہ اس تنظیم کو ختم کیا جائے۔ اس کے خاتمہ نے حکومت کی بنیادوں کو نہ صرف مستحکم کیا بلکہ اس کے وقار کو بھی بڑھایا۔
امیر علی کی کہانی، اس تنظیم کی ایک داستان ہے کہ نہ صرف ٹھگوں کی کاروائیوں کو منظر عام پر لاتی ہے، بلکہ یہ انیسویں صدی کے ہندوستان کی بھی تصویر پیش کرتی ہے۔ اس میں عام لوگ، تاجر و دوکاندار بھی، اور کاروانوں کی شکل میں سفر کرنے والے مسافر بھی، ذرا غور کریں تو ان سطروں میں اس عہد کا ذہن بھی موجود ہے۔
ٹھگوں نے کس طرح سے اردو زبان پر اثر ڈالا اس کا اندازہ لفظ ٹھگی سے لگائیے جو آج تک مروج ہے۔ اس کی وجہ سے یہ ہوا کہ ٹھگوں کے وارث بھی کسی نہ کسی شکل میں آج معاشرے میں موجود ہیں۔
Be the first to review “ہندوستان کے ٹھگ | HINDUSTAN KAY THUG | CONFESSIONS OF A THUG | PHILIP MEADOWS TAYLOR” Cancel reply
Reviews
There are no reviews yet.